کرکٹ

عامر…باہر؟

’’اگر کسی کو محمد عامر کی فارم کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ہے تو وہ محمد عامر خود ہے‘‘ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا یہ بیان کانوں کو بھلا ضرور لگ سکتا ہے لیکن حقیقت سے کوسوں دور ہے کیونکہ اگر محمد عامر کو ون ڈے انٹرنیشنلز میں اپنی کارکردگی کی فکر ہوتی تو چمپئنز ٹرافی کے بعد سے لے کر اب تک وہ فارم کی بحالی کیلئے کچھ جتن کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے لیکن جب محمد عامر کو خراب فارم اور کارکردگی کے باوجود ’’بہترین‘‘ بولر قرار دیا جارہا ہے اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود مسلسل مواقع دیے جارہے ہیں تو پھر محمد عامر کو اپنی فارم کے حوالے سے فکر مند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
ہیڈ کوچ نے جہاں ایک طرف محمد عامر کی فارم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا وہاں دوسری جانب ایک مرتبہ پھر یہ باور کروادیا کہ محمد عامر حیران کن مہارت کا حامل بولر ہے جس میں بڑے میچ کا ٹمپرامنٹ موجود ہے۔محمد عامر کی مہارت پر کسی کو شک نہیں اور یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ محمد عامر کے پاس بڑے میچ کا ٹمپرامنٹ موجود ہے جس کا مظاہرہ بائیں کے فاسٹ بالر نے چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بخوبی کیا تھا مگر سوال یہ ہے کہ ناقص کارکردگی کے حامل سینئر بولر کو ماضی کی ایک پرفارمنس کی بنیاد پر ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنا عقلمندی کا فیصلہ ہوگا جس کیلئے ایک نوجوان فاسٹ بولر کی قربانی دینا ہوگی۔
چمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے محمد عامر نے 14ون ڈے انٹرنیشنلز میں92.60کی بھاری اوسط سے صرف 5 وکٹیں اپنے نام کی ہیں اور یہ پرفارمنس ایسی ہرگز نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر کسی بھی بولر کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ دی جائے۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے انگلینڈ پہنچتے ہی محمد عامر کی فارم واپس آجائے گی اور کھبا پیسر ورلڈ کپ فائنل میں وسیم اکرم کی طرح دو جادوئی گیندیں کرتے ہوئے پاکستان کو چمپئن بنوادے گا؟؟
اگر پچھلے دو برسوں سے میرٹ میرٹ کا راگ الاپا جارہا ہے اور کارکردگی کیساتھ فٹنس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا رہا ہے تو پھر محمد عامر کے کیس میں رعایت کیوں برتی جارہی ہے۔کیا یہ صرف محمد عامر کا ہی استحقاق ہے کہ ہر دفعہ بائیں ہاتھ کے بولر کو ’’رعایت‘‘ دے دی جائے؟یہ رعایت گزشتہ برسوں میں جنید خان یا کسی دوسرے فاسٹ بولر کو کیوں نہیں دی گئی؟
کوچ کی حمایت اور پی سی بی کی جانب سے ملنے والی رعایت کے باوجود ورلڈ کپ اسکواڈ میں محمد عامر آٹومیٹک سلیکشن نہیں ہے ۔ چمپئنز ٹرافی میں دھوم مچانے والے حسن علی نے میگا ایونٹ کے بعد پاکستان کیلئے 23میچز میں 35وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ ان اور آؤٹ کا شکار ہونے کے باوجود کیفٹ آرم پیسر عثمان شنواری نے 12میچز میں محض 17.47کی اوسط سے 23وکٹیں لی ہیں۔ شاہین آفریدی کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے جس نے 10 میچز میں 19کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھایا ہے۔آل راؤنڈر کے طور پر ٹیم میںاپنی جگہ پکی کرنے والے فہیم اشرف نے دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرتے ہوئے 19میچز میں17 وکٹیں لی ہیںجبکہ جنید خان نے 9میچز میں 10 بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ تمام بولرز اس عرصے میں میچ میں چار وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں ۔یہ ایسی ’’خوبی‘‘ ہے جس کی محمد عامر میں کمی ہے۔
عماد وسیم اور شاداب خان جیسے اسپنرزاور فہیم اشرف جیسے آل راؤنڈ کی موجودگی میں اگر سلیکشن کمیٹی محمد عامر کی جگہ بنانے کیلئے حسن علی، عثمان شنواری، شاہین آفریدی اور جنید خان میں سے کسی فاسٹ بولر کو ڈراپ کرتی ہے تو یہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کیساتھ زیادتی تصور کی جائے گی۔
اور ہاں ابھی میں نے محمد حسنین کی بات بالکل بھی نہیں کی !

Add Comment

Click here to post a comment