کرکٹ

میدان کے محنت کش

تماشائیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا اسٹیڈیم، فلڈ لائٹس روشن ، بہترین آؤٹ فیلڈ اور شاندار پچ، دونوں ٹیموں کا عمدہ کھیل ، تماشائی لطف اندوز، میچ ختم، جیتنے والی ٹیم اور میچ کے بہترین کھلاڑی کی ستائش اور تماشائی میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو روانہ…
یہی ہوتا ہے ناں عام طور پر ایک محدود اوورز کے میچ میں…میچ شروع ہونے سے پہلے کیا ہوتا ہے؟وہ منظر بھی دیکھتے ہیں…میچ سے ایک دن پہلے، دن کا وقت، خالی اسٹیڈیم اور میدان کے اندر کچھ لوگ تپتے سورج کے نیچے وکٹ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ کوئی الیکٹرک رولر کی مدد سے وکٹ بنا رہا ہے، کوئی تیس گز کے دائرے کی پیمائش کررہا ہے، کہیں میدان سے گھاس کاٹتے ہوئے دلکش ڈیزائن بنایا جارہا ہے تو کہیں پانی لگایا جارہا ہے۔ہیڈ کیوریٹر مکمل یکسوئی کیساتھ وکٹ کی تیاری میں مصروف ہے کہ کل شام جب ہزاروں کی تعداد میں تماشائی اسٹیڈیم کا رخ کریں تو انہیں ایک بھرپور مقابلہ دیکھنے کو مل سکے۔پریکٹس پچز الگ تیار کی جاتی ہیں کہ میچ سے پہلے دونوں ٹیموں کو اچھی مشق مل سکے اور پھر جب میچ شروع ہوتا ہے تو وہ سب کچھ ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
کھلاڑیوں، کوچز، مینجرز، کمنٹریٹرز کے نام سب لوگ جانتے ہیں ، میچ کے بعد تماشائیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان ’’اسٹارز‘‘ کے ساتھ سیلفی لیں مگر اُن ہیروز کے بارے میں کوئی نہیں جانتا جو موسم کی سختی کے باوجود دن رات ایک کرتے ہوئے میدانوں کو سجاتے ہیں، وکٹیں تیار کرتے ہیں اور میدان کو کھیل کے قابل بناتے ہیں۔ان ہیروز کو نہ صلے کی تمنا ہے اور نہ ستائش کی پرواہ یہ بس اپنی ہی دھن میں،اپنے گھر کا چولہا جلانے، بچوں کے اخراجات پورے کرنے اور سب سے بڑھ کر کھیل کی محبت کی خاطر سارا سارا دن میدانوں میں گزار دیتے ہیں۔
کھیل سے محبت کی خاطر کئی برسوں سے میدانوں کی خاک چھاننے کی وجہ سے میں ان محنت کشوں کے حالات سے واقف ہوں جنہیں ہم گراؤنڈزمین کہتے ہیں۔تنخواہ چند ہزار روپے، اکثر کی نوکریاں کنٹریکٹ پر،بے شمار ایسے جو دیہاڑی پر کام کرتے ہیں،میچز کے دوران ڈبل ڈیوٹی ،پرانے یونیفارم اور بنیادی سہولیات کا پتہ تک نہیں۔اس کے باوجود میدان کے یہ محنت کش پوری ایمانداری کیساتھ اپنے فرائض پورے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر انہیں کوئی جانتا تک نہیں۔ اگر کسی میچ میں وکٹ اچھی نہ ہوتو سارا ملبہ گراؤنڈ اسٹاف پراور اگر معیاری پچ تیار ہو تو اس کا کریڈٹ لینے کیلئے کئی آجاتے ہیں۔
ایک میچ کے انعقاد کیلئے جہاں دیگر لوازمات ضروری اور اہم ہیں وہاں سب سے اہم جزو یعنی گراؤنڈ اسٹاف کو کیوں نظر انداز کردیا جاتا ہے جن کی محنت کے بغیر اچھے مقابلوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔یہی وہ مزدور ہیں جو برائے نام مزدوری کے بدلے اپنی محنت کی بدولت کھلاڑیوں اور شائقین کو عالمی معیار کی کرکٹ فراہم کرتے ہیں۔
یکم مئی کے دن جہاں دیگر مزدوروں کے حق کی بات کی جاتی ہے ، ان کیلئے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تقریریں کی جاتی ہیں ، شعر سنائے جاتے ہیں اور اب موجود دور میں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ’’کی بورڈ‘‘ توڑنے والے جہادی مزدوروں کے حقوق کیلئے زمین آسمان ایک کردیتے ہیں وہاں میدان کے ان محنت کشوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جو تپتی دوپہروں کو اپنے بدن سنہری کرتے ہوئے کرکٹ کے میدانوں کو چار چاند لگا رہے ہوتے ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment