کرکٹ

ناکامی میں پوشیدہ ’’بہتری‘‘

29ویں سے34ویں اوورتک عماد وسیم، شعیب ملک اور محمد حفیظ نے پانچ اوورز کیے، صرف 16رنز دیے اور تین اہم وکٹیں حاصل کرتے ہوئے گرین شرٹس کی میدان میں واپسی کروادی مگر اس کے بعد فاسٹ بولرز نے گیند سنبھال لی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی!
یہ منطق بھی کوئی نہیں سمجھ سکا کہ 2اوورز میں صرف 4رنز کے بدلے ایک وکٹ لینے والے شعیب ملک سے مزید بولنگ کیوں نہیں کروائی گئی؟ عماد وسیم نے دس اوورز کے اسپیل میں 62رنز دیے جبکہ حفیظ اور ملک کے مشترکہ دس اوورز میں صرف 52رنز بنے مگر اس کے باوجود فاسٹ بولرز پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا گیا اور نتیجہ جنید خان کے دس اوورز میں85اور محمد حسنین کے دس اوورز میں80رنز کی صورت میں برآمد ہوا۔
ناٹنگھم کے ون ڈے میں پاکستانی بیٹسمینوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 340رنز بنائے جو اس وکٹ اور میدان کے لحاظ سے قدرے کم اسکور تھا مگر اس کے باوجود یہ ایسا مجموعہ ضرور تھا کہ جس کا دفاع کیا جاسکتا اور خاص طور پرکپتان سمیت انگلینڈ کے دو اہم بیٹسمینوں کی غیر موجودگی میں اس مجموعے کا دفاع مزید آسان دکھائی دے رہا تھااور پھر31 ویں اوور میں 5/216کے اسکور پر میچ بالکل پاکستانی ٹیم کے ہاتھ میں آچکا تھا مگر غلط فیصلوں، خراب فیلڈنگ اور ناقص بولنگ نے انگلینڈ کو پھر فتحیاب کروادیا۔
چھ وکٹیں گنوانے کے بعد آخری دس اوورز میں انگلینڈ کو جیت کیلئے 83رنز درکار تھے اور امید کی واحد کرن جونی بیئراسٹو کی صورت میں ہوم ٹیم کو جیت کا خواب دکھا رہی تھی۔ ان آخری دس اوورز میں جہاں خراب فیلڈنگ نے انگلینڈ کیلئے جیت کو آسان کیا وہاں ٹام کَرن اور عادل رشید نے مجموعی طور پر 43رنز بنا کر ثابت کردیا کہ اختتامی اوورز میں پاکستانی بولرز کیخلاف رنز بنانا کس قدر آسان ہے۔
میچ میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب فخر زمان کی اوور تھرو پر دوسرا رن لیتے ہوئے ٹام کرن بالکل معمولی فرق سے رن آؤٹ ہوگیا تھا مگر گیند کو وکٹوں سے لگانے والے سرفراز احمد نے کسی قسم کی کوئی اپیل ہی نہ کی اور اسی لیے لیگ امپائر نے تیسرے امپائر کی مدد لینا ضروری نہ سمجھی مگر ایک گیند کے بعد ایکشن ری پلے میں واضح ہوگیا کہ ٹام کَرن رن آؤٹ ہوچکا تھا مگر اب پچھتائے کیا ہوت،جب چڑیاں چُگ گئی کھیت!
بیئر اسٹو اور کَرن آہستہ آہستہ رنز ’’چُگتے‘‘ گئے اور پاکستان کے ہاتھوں سے جیت لے ُاُڑے۔ اسی میچ میں جیسن روئے نے باؤنڈری لائن پر حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمد حفیظ کے یقینی چھکے کو ایک رن میں بدلا مگر جب یہی موقع آصف علی کو ملا تو وہ نہ صرف کیچ تھامنے میں ناکام رہے بلکہ ہوا میں اُچھلتے ہوئے گیند کو واپس میدان میں بھی نہ پھینک سکے اور یوں انگلینڈ کو یقینی نقصان سے بچتے ہوئے قیمتی چھ رنز بھی مل گئے۔
بہت سے لوگ یہ منطق پیش کررہے ہیں کہ دنیا کی نمبر ایک ٹیم کیخلاف اُس کے میدانوں پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں دن بدن بہتری آرہی ہے اور چھٹے نمبر پر موجود ٹیم ڈٹ کر گوروں کا مقابلہ کررہی ہے ۔کچھ وقت کیلئے اس منطق کو مان بھی لیتے ہیں کہ پچھلے میچ میں پانچ اوورز قبل انگلینڈ کو مطلوبہ ہدف تک پہنچانے والی پاکستانی ٹیم نے ناٹنگھم میں میچ آخری اوور تک ’’کھینچ‘‘ لیا مگر اس ’’بہتری‘‘ کے پیچھے کب تک خامیوں ،کوتاہیوں اور ناکامیوں کو چھپایا جائے گا؟
اب تعمیر نو کا وقت گزر چکا ہے، تجربات کرنے کا وقت گزر چکا ہے، شکستوں میں بہتری کے آثار ڈھونڈنے کا وقت گزر چکا ہے …اب وقت کے خود کو حریف کے مقابلے میں کھڑا کرتے ہوئے فتوحات حاصل کرنے کا ،کیونکہ جس طرح بڑی سے بڑی دلیل بھی کسی بھوکے کا پیٹ نہیں بھر سکتی بالکل اسی طرح ناکامیوں سے حاصل ہونے والی ’’بہتری‘‘ کسی بھی طرح جیت کا نعم البدل نہیں ہوسکتی!

Add Comment

Click here to post a comment