کرکٹ

لکی وِکی!!

قسمت کی دیوی جس قدر وہاب ریاض پر مہربان ہے اتنی ہی ناراض وہ جنید خان سے ہے کہ وہاب کو مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع مل گیا ہے جس کی میگا ایونٹ میں ایک پرفارمنس سب کو یاد رہتی ہے جبکہ دوسری جانب چار سال تک محنت کرنے والے جنید خان کو آخری وقت پر ورلڈ کپ سے باہر کردیتی ہے۔
قسمت تو محمد عامر کی بھی عروج پر ہے جو اسپاٹ فکسنگ کے سبب 2011ء اور 2015ء کاورلڈ کپ نہ کھیل سکا اور اب ورلڈ کپ کے ابتدائی اسکواڈ کا حصہ نہ بننے والے، انگلینڈ میں کوئی میچ نہ کھیلنے والے ،چکن پاکس میں مبتلا ہونے والے فاسٹ بولر کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ مل گئی ہے۔
وہاب ریاض کے پاس رفتار کا ہتھیار موجود ہے جس کی بنیاد پر’’وکی‘‘ کو دیگر بولرز پر برتری حاصل ہوجاتی ہے کہ اچھی رفتار کیساتھ نئی گیند کرنے اور پھر اتنی ہی رفتار سے ریورس سوئنگ کرنے کی مہارت وہاب کو دیگر پاکستانی فاسٹ بولرز سے ممتاز کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ ورلڈ کپ سے قبل وہاب ریاض کی یاد شدت سے ستاتی ہے اور پھر ورلڈ کپ میں وہاب کا ایک اسپیل کھبے پیسر کو اگلے ورلڈ کپ کا ٹکٹ دلوادیتا ہے۔
2011ء کے ورلڈ کپ میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارت کیخلاف سیمی فائنل مقابلے میں تجربہ کار شعیب اختر پر نوجوان وہاب ریاض کو ترجیح دی جائے گی مگر موہالی میں وہاب نے پانچ بھارتی بیٹسمینوں کو پویلین روانہ کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔ 2015ء ورلڈ کپ کے کواٹر فائنل میں شین واٹسن کو کیا گیا طوفانی اسپیل سب کو یاد رہ گیا مگر دو عالمی کپ مقابلوں کے دوران وہاب کی پرفارمنس کیسی رہی ،کسی کو بھی نہیں یاد۔
اب ایک مرتبہ پھر نظریہ ضرورت کے تحت وہاب ریاض کو 2019ء کے ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی ٹیم کا حصہ بنالیا گیا ہے کیونکہ ماضی میں ورلڈ کپ کی پرفارمنس، تجربہ اور حقیقی رفتار نے وہاب کو ایک مرتبہ پھر سلیکٹرز کی آنکھوں کا تارا بنا دیا ہے۔
حالیہ عرصے میں وہاب ریاض نے پاکستان کیلئے کچھ زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی جس کی ایک وجہ پرفارمنس تھی تو دوسرا سبب کوچ مکی آرتھر سے اختلافات بھی تھے کیونکہ غیر ملکی کوچ کو منہ پھٹ فاسٹ بولر ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا۔اس عرصے میں وہاب ریاض نے پی ایس ایل میں جاندار پرفارمنس دی ہے جبکہ پاکستان کپ میں سیدھی اور بے جان وکٹوں پر وہاب ریاض کی رفتار اور ریورس سوئنگ بیٹسمینوں کے قدم اُکھاڑ رہی تھی لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اتنا عرصہ پاکستانی ٹیم سے دور رہنے والا وہاب ریاض کیا ورلڈ کپ میں ویسی پرفارمنس پیش کرسکے گا جس کی توقع سینئر فاسٹ بولر سے کی جارہی ہے۔
اگر ورلڈ کپ کھیلنے کی بات کریں تو اس ٹیم میں صرف محمد حفیظ اور وہاب ریاض ہی ایسے دو کھلاڑی ہیں جو تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں جبکہ 79ون ڈے انٹرنیشنلز کیساتھ وہاب ریاض اس ٹیم کا سب سے زیادہ تجربہ کار بولر بھی ہے اور اس لحاظ سے وہاب ریاض پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوگئی ہے کہ کھبے پیسر کو اُن توقعات پر بھی پورا اترنا ہے جو اس سے وابستہ کی گئی ہیں ، شائقین اور میڈیا کا بھی مان رکھنا ہے جس نے وہاب کو ورلڈ کپ اسکواڈ سے باہر رکھنے پر آواز بلند کی، وہاب کو آخری لمحات میں انگلینڈ پہنچ کر خود کو اس ماحول اور کنڈیشنز سے بھی ہم آہنگ ہونا ہے اور سب سے بڑھ کر وہاب ریاض کو ورلڈ کپ میں بہترین پرفارمنس کا بھی مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ دیگر فاسٹ بولرز کی خراب کارکردگی، سلیکشن کمیٹی پر پڑنے والے دباؤاور قسمت کی دیوی نے وہاب ریاض کو ورلڈ کپ کی ٹیم میں تو شامل کروادیا ہے مگر میگا ایونٹ میں وہاب ریاض کو وہ سب کچھ ثابت کرنا ہوگا جس کی توقع کی جارہی ہے اور جس کی اُس میں اہلیت موجود ہے!

Add Comment

Click here to post a comment